نئی دہلی25نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سابق صدر پرنب مکھرجی نے ملک میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ملک کی بیشتر دولت امیروں کی جیب میں جانے سے غریبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر تشویش ظاہر کی۔دہلی میں ’امن، ہم آہنگی اور خوشی کی طرف:اثرانگیز تبدیلی‘موضوع پر جمعہ کو منعقد دو روزہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مکھرجی نے کہا کہ جس ملک نے دنیا کو’وسدھیو کٹمبکم‘اور رواداری کے اقدار، قبولیت اورمعافی کاسبق دیاوہاں اب عدم تشدد نفرت اور انسانی حقوق کے خاتمے کی خبریں آرہی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ پرنب مکھرجی نے پہلی بار عدم برداشت کا ذکر کیا ہے۔انہوں نے کئی بار اشاروں اشاروں میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔اس پروگرام کاانعقاد پرنب مکھرجی فاؤنڈیشن اورسینٹرفار ریسرچ فاررولراینڈ انڈسٹیرئل ڈیولپمنٹ کے ذریعہ کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ جب قوم تنوع اور رواداری کا خیر مقدم کرتا ہے اور مختلف کمیونٹیز میں ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے، ہم نفرت کے زہر کو صاف کرتے ہیں اور روزو مرہ کی زندگی میں حسد اور جارحیت کو دور کرتے ہیں تو وہاں امن اور بھائی چارے کا جذبہ آتا ہے۔سابق صدر نے کہا کہ ان ممالک میں زیادہ خوشحالی ہوتی ہے جو اپنے باشندوں کے لئے بنیادی سہولیات اور وسائل کو یقینی بناتے ہیں، زیادہ سیکورٹی دیتے ہیں، خود مختاری فراہم کرتے ہیں اور لوگوں کی اطلاعات تک پہنچ ہوتی ہے،جہاں ذاتی حفاظت کی ضمانت دی جاتی ہے اور لوگ محفوظ ہیں وہاں لوگ زیادہ خوش ہیں۔مکھرجی نے کہا کہ اقتصادی ماحول کی پرواہ کئے بغیرلوگ امن کے ماحول میں خوش رہتے ہیں۔اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ اعداد و شمار نظر اندازکردئے جائیں تو، ہماری ترقیاتی معیشت میں بھی کمی ہو جائے گی،ہمیں ترقی کے انداز پر توجہ دینا ہوگا۔گرونانک دیو کی 549ویں یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مکھرجی نے کہا کہ آج ان کے امن اور اتحاد کے پیغام کو یاد کرنا ضروری ہے۔انہوں نے چانکیا کے جنانی کو یاد کیا اور کہا کہ عوام کی خوشی می ہی بادشاہ کی خوشی ہے۔رگ وید میں کہا گیا ہے کہ ہمارے درمیان اتحاد ہونا چاہئے اور سوچ میں ہم آہنگی۔مکھرجی نے سوال کیا کہ کیا آئین پر عمل ہو رہا ہے جو سماجی و اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار رائے کی آزادی اور غوروفکر، حیثیت اور مواقع کی مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی خوشحالی کی درجہ بندی میں ہندوستان 113ویں نمبر پر ہے جبکہ بھوکوں کی فہرست میں ہندوستان کا نمبر 119واں ہے۔اسی طرح کی صورتحال غذائیت، خود کشی، مساوات اور اقتصادی آزادی کی درجہ بندی میں ہے۔سابق صدر کے بیان پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی کوئی تجربہ کار شخص اگر تجاویز دیتا ہے تو اس کو قبول کرنا چاہئے۔پرنب ایک قابل اور تجربہ کار سیاست داں ہیں،وہ بھی جانتا ہے کہ رواداری ملک کا ڈی این اے ہے،ہمدردی ملک کی ثقافت ہے،کسی نے ملک کی ثقافت اور تہذیب کو کمزور نہیں کیا اور کمزور نہیں ہو گا۔ ملک کے اداروں کے کمزورہونے پرنقوی نے کہا کہ آئینی ادارے 4سالوں میں مودی کی قیادت میں شفاف اور مضبوط بن گئے ہیں۔پرنب دا کے بیان کو میں سیاسی طور پر نہیں دیکھتا، کبھی کبھی تجربہ کار شخص کوئی بیان دیتا ہے تو آپ کو پسند ہو یا نہ پسند ہو آپ کو قبول کرنا ہوتا ہے۔تین سال پہلے صدررہنے کے دوران بھی پرنب مکھرجی نے ملک کے حالات پر مایوسی کا اظہار کیا تھاتب انہوں نے کہا کہ تھا عدم برداشت سے بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے۔صدر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد اس سال جون میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ایک پروگرام میں شریک ہوتے کہا تھا کہ نفرت اور عدم برداشت سے ہماری قومی شناخت خطرے میں پڑے گی۔جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ہندوستانی قوم پرستی میں تمام قسم کی تنوع کی جگہ ہے،ہندوستان کی تمام قوموں میں قوم پرستی میں موجود ہے،ذات، مذہب، نسل اور زبان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔